ایران کے موجودہ حالات کے تناظر میں اہم نکات، ایران میں کیا ہورہا اور کیا ہونے والا ہے؟امام زمانہ(عج) کا اہم پیغام۔
استاد محترم قبلہ علامہ آغا علی اصغر سیفی صاحب۔
﷽
ققال اللہ وتعالیٰ فی القرآن المجید والفرقآن الحمید
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ۔
بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے اور برائی کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے۔ درود بر محمدؐﷺ و آل محمدؐﷺ۔
روز جمعہ ہے، روز استجابت دعا ہے ، روز ظہور امام زمانؑ عج ہے، روز مغفرت و توبہ ہے اور بلخصوص آج ولادتِ باسعادت ، سفینۃالنجات امام حسینؑ علیہ السلام ہے۔
ہم آج کے دن پروردگار سے عیدی جو مانگتے ہیں کہ ہمارے گناہان کو معاف فرما اور ہمیں مولا امام زمانؑ فرزند حسینؑ کی نصرت اور ان کی خدمت کرنے کے لائق قرار دے ۔ اور پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی پوری زندگی راہ حسینؑ اور راہ شہداءؑ پر گذاریں۔ انشاءاللہ الہٰی آمین۔
یہ سورہ النمل کی 62 نمبر آیت ہے جو معروف ترین ہے۔
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ
بہت سارے علماء بلکہ بہت ساری احادیث میں یہ روایت ہے کہ انسان مشکلات میں اس آیت مجیدہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے۔ یہ ایک مجرب آیہ ہے اور جب بھی اس آیہ مجیدہ کے ذریعے بارگاہ خداوندی میں دعا کی گئی ہے تو وہ مقبول ہوتی ہے۔ البتہ بسا اوقات اگر دعا قبول نہیں ہوتی تو اس کی ایک اپنی حکمت ہوتی ہے۔ آپ سے اس حوالے سے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ دعا خود ایک ذکر ہے اور اگرکسی وقت قبول نہیں ہوتی تو اس کا اجر آخرت میں اسے دیا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا میں جو چیز مانگ رہا ہے اسے آخرت میں اس سے بڑھ کر اس سے بیش تر اسے ملے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ روز قیامت جب لوگ دیکھیں گے کہ دنیا میں جو ہم نے بعض دعائیں مانگی تھیں اور وہ دنیا میں قبول نہ ہوئی تھیں اور جب وہ روزِ قیامت جب ان دعاؤں کا ثواب دیکھے گا کیونکہ اللہ کسی کا عمل بھی ضائع نہیں کرتا۔ اور دعا بھی ایک عمل ہے اور خود پروردگار نے فرمایا کہ دعا کرو۔ تو جب وہ اپنی ان دعاؤں کا اجر دیکھے گا تو حسرت کرے گا کہ کاش! میری باقی دعائیں بھی قبول نہ ہوتیں تو آج مجھے یہ سب مقامات مذید ملتے اور میرا اجرو مقام بڑھتا۔ تو بعض اوقات دعاؤں کا قبول نہ ہونا الہیٰ لطف ہے۔
آیت مجیدہ کا زمانہ ظہور سے ربط
یہ جو آیت ہے۔ اس کے بارے میں ہمارے آئمہؑ فرماتے ہیں کہ درست ہے کہ اس آیہ مجیدہ کے ذریعے ہر مصیبت و مشکل میں پھنسا ہوا شخص اللہ کی بارگاہ میں اپنی دعائیں پیش کر سکتا ہے۔
لیکن اصل میں یہ آیہ مجیدہ زمانہ ظہور کے بارے میں ہے۔
یہ آیہ مہدویت میں سے ایک آیت ہے۔ کہ کب کوئی مضطر پکارے گا کب کوئی مجبور پکارے گا اور اس کی مشکل آسان ہوگی وہ زمانہ ظہور ہے۔ سبحان اللہ!
کتاب شریف غیبت نعمانیؒ باب 20 روایات ہیں کہ جن میں معصومؑ فرماتے ہیں کہ:
اس آیہ مجیدہ کی حقیقی تفسیر بلکہ اس کی مجسم تصویر عصر ظہور ہے۔ کہ جب امام مہدیؑ عج کی حکومت پوری دنیا پر نافذ ہوگی اور جب عدل الہیٰ پوری دنیا پر نافذ ہوگا۔ جب ظالم اور شیاطین ختم ہوجائیں گے۔ اُس دور میں دنیا آسائش و نعمت میں ہوگی اور ایک آسائش یہ ہوگی کہ اگر دنیا کے ایک حصہ میں کوئی ایک مضطر شخص اپنی مشکل میں فریاد کرے گا اور امام وقت عج یا خدا کو پکارے گا تو خلیفتہ اللہ، فرزند زہراؑ، فرزند حسینؑ امام وقت عج اس وقت بالآخر علم الہیٰ سے متوجہ ہو جائیں گے کہ مشرق و مغرب میں کون ہے جو اس وقت مشکل میں پھنسا ہوا ہے۔ اور اس کی مشکل کو فوری دور کریں گے۔
یعنی!زمانہ ظہور میں اس آیہ مجیدہ کی اصلی تصویر یہ ہوگی کہ کوئی بھی مشکل میں پھنسا ہوگا تو سب کی مشکلوں کو زہراؑ کا فرزند دور کرے گا۔انشاءاللہ!
اسی لیے تو کہتے ہیں کہ زمانہ ظہور اس زمین پر سنہری دور ہوگا۔ اور ابھی تک اس طرح کا دور کبھی شروع ہوا ہی نہیں۔ احادیث میں آیا ہے کہ دنیا کا سب سے اعلیٰ ترین دور ہوگا کہ جس میں قبروں میں پڑے ہوئے مرُدے ایک دوسرے کو مبارک باد دیں گے۔ کہ زمین پر اب صحیح الہیٰ دور شروع ہوا ہے۔سبحان اللہ!
حتی کہتے ہیں کہ دنیا اتنی پر امن اور پر آسائش ہوگی کہ آسمانی مخلوقات زمین والوں کو دیکھ کر رشک کریں گے۔ اور کس ہستی سے یہ عظیم الشان دور شروع ہونے والا ہے یعنی یہی نیمہ شعبان کہ وہ ہستی جو محور نیمہ شعبان ہے کہ جن کی ولادت کا دن ہمارے پاس یادگار ہے۔ اس ہستی کے ذریعے دنیا پر یہ عظیم الہیٰ دور شروع ہونا ہے۔ مولاؑ عج اپنے ناصرین کے منتظر ہیں اور زمانہ غیبت ختم ہوتے ہی یہ عظیم دور شروع ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ عظیم دور دکھائے انشاءاللہ۔آمین!
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ میں ان موجودہ حالات میں بھی اس آیہ مجیدہ کی تلاوت کرنی چاہیے۔ ہمیں اب بھی اپنے زمانے کے امامؑ سے توسل کرنا چاہیے۔ درست ہے کہ ، زمانہ ظہور میں امام زمانہؑ کی مدد ہمیں حاصل بھی ہوگی اور نظر بھی آئے گی۔ لیکن! زمانہ غیبت میں بھی امام زمانؑ عج مدد کرتے ہیں اور جب بھی ان سے توسل کرتے ہیں تو ان کی مدد پہنچتی ہے۔
اس وقت جو ایران کے حالات ہیں کہ اندرونی طور پر منافقین کی سازشیں اور فتنے اور بیرونی دشمن کے حملے کا خطرہ، اس وقت ہم عجیب حالات سے دوچار ہیں، ایران کے اندر جو دو دن فتنہ اٹھا کہ بتایا جا رہا ہے کہ تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے کہ جن میں بہت سارے لوگ شہید ہیں کہ جو بے گناہ راہگیر یا خود امن و امان قائم کرنے والے ادارے کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے خود کسی قسم کا کوئی اسلحہ استعمال نہیں کیا لیکن انہوں نے لوگوں کو تخریب کاری اور فتنہ و فساد پھیلانے سے روکا وہ بھی منافقین کے ظلم کا شکار ہوئے۔ ایرانی حکومت نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو بتایا کہ اہل حق ہمیشہ سے مظلوم ہیں اور دنیا کے ظالموں کے مقابلے میں ثابت قدم ہیں ۔ اور علیؑ والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
یہ بلکل اسی طرح کا فتنہ ہے۔ کہ جیسے ہم مولا علیؑ کے دور میں بھی ایسے فتنے دیکھتے ہیں۔ اندرونی طور پر منافقین کا فتنہ ، جنگ صفین میں خوارج کا فتنہ۔
اب اس کی وجہ کیا ہے؟
معرفت اور بصیرت کا نہ ہونا اور دنیا کا طمع اور لالچ ہونا۔
اب تو حقائق کھل کر سامنے آرہے ہیں کہ یہی امریکی اور اسرائیلی ایجنسیوں کی طرف سے ان منافقین کو جو پیش کشیں ہوئیں کہ ایک آدمی کو قتل کرنے پر پانچ سو ملین تومان دیں گے اور اگر ایک گاڑی کو آگ لگاؤ گے تو ڈھائی سو ملین ملے گا۔ اگر کسی گھر یا عمارت پر حملہ کرو گے تو اسی ملین ملے گا۔ اگر کسی مسجد یا کسی امام زادے کے حرم پر حملہ کرو گے تو اتنا ۔ یعنی! اپ دیکھیں کتنی مساجد پر حملہ ہوا ہے۔؟؟
اب تو حقائق کھل کر سامنے آگئے ہیں کہ جنہوں نے مساجد پر حملہ کیا وہ لوگ بہائی تھے۔ ان کے جو بہت سارے لیڈر گرفتار ہوئے ہیں اور جو تین ہزار لوگ گرفتار ہوئے ہیں۔ تو حقائق بتارہے ہیں کہ کس طرح ان کو کس طرح ظالم مستکبرین استعماری طاقتیں کس طرح ایران کے اند دخل دے رہی ہیں اور کس طرح فتنے ڈال رہی ہیں۔ کیونکہ واحد اسلامی ملک جو حقیقی اسلام کا علمبردار ہے اور واقعاً امیرالمومنینؑ اور سیرت معصومینؑ پر چلتے ہوئے میدان حق میں ان استعماری حکومتوں کے مدمقابل ڈٹ کر کھڑا ہے وہ ایران ہی تو ہے، وہی تو مملکت اسلامی ہے۔
باقی سب تو نام نہاد مسلمان ہیں جو جھکے ہوئے ہیں یا پھر خوشامدی ہیں۔ اصل اسلام تو ایران میں ہے۔ دنیا کو کسی اور اسلامی ملک سے تو خطرہ ہی نہیں ہے۔ صرف ایران سے خطرہ ہے۔ کیونکہ باطل کو پتہ ہے کہ اصل اسلام کہاں ہے۔
باطل کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ اصل اسلام سے ہے۔
جیسے بنی امیہ و بنی عباس کی حکومتیں بظاہر اسلامی حکومتیں تھیں لیکن! ان کو آل محمدؑ ﷺ ہمارے خلفاء سے خطرہ محسوس ہوتا تھا اسی لیے تو آئمہؑ معصومینؑ کو شہید کر دیتے تھے۔ حتی امامؑ مسجد میں تعلیم دے رہے ہوتے تھے اور ان کے خلاف کوئی اٹھے ہوئے نہیں ہیں لیکن! امامؑ کا وجود ہی ان کے لیے خطرہ تھا۔ کیونکہ اصل اسلام کا آئینہ دار ہمارے آئمہؑ کا وجود تھا۔
بلکہ تاریخ میں جتنے بھی اسلامی رہنما کہ ان کا تعلق چاہے مکتب اہلسنت سے ہی کیوں نہ ہو۔ جنہوں نے بھی حقیقی طور پر اسلامی اعمال اور اسلامی خصوصیات کے ساتھ قدم بڑھائے اور جزوی طور پر ہی ہمارے آئمہ کی پیروی کی تو وہ ظلم کا شکار ہوئے۔ اور حتی ان کو نام نہاد مسلمان ظالم حاکم بھی برداشت نہ کر سکے۔
اس وقت ایران میں منافقین اور بلخصوص فرقہ بہائیت بہت زیادہ پیش پیش ہے۔ بہائی ایسے ہی ہیں کہ جیسے پاکستان و ہند کے اندر قادیانی ہیں۔
علامہ اقبالؒ فرماتے تھے کہ:
یہ جو دو فرقے نکلے ہیں پاک و ہند میں مرزائیت اور ایران میں بہایت، یہ دونوں اسلام سے نکلے ہیں لیکن! دونوں اسلام سے خارج ہیں۔ اور دونوں اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔ اور جس طرح ان دونوں نے اسلام کو ضربیں لگائیں اس طرح ہوسکتا ہے کہ باہر کا دشمن ضربیں نہ لگا سکے۔
مرزائیت وہی میرزا غلام احمد کا فتنہ اور بہائیت یہی حسین علی نوری کا فتنہ ان کے نام اگر دیکھیں تو کس قدر پیارے ہیں لیکن ان کی حقیقیت یہ ہے کہ یہ استعمار (برطانیہ) کے آلہ کار ہیں اور انہوں نے اسلام میں نئے مذہب بنائے اور اسلام سے خارج ہوگئے۔
قادیانیوں کے علی اعلان سارے بڑے برطانیہ میں بیٹھے ہیں اور بہائیوں کے سارے بڑے اسرائیل میں ہیں بلکہ ان کی قبریں بھی وہیں ہیں۔
یہ دونوں ختم نبوت کے منکر ہیں۔ دونوں نے اپنی شریعت اور کتاب نکالی دونوں خارج الاسلام ہیں بلکہ بہائی ان سے بھی بدتر ہیں۔ یہ نہ کر پیغمبرؐﷺ کے، شریعت اور کتاب کے منکر ہیں بلکہ پروردگار کی توحید کے بھی منکر ہیں۔ اور کعبہ کے قبلہ ہونے کے بھی منکر ہیں ان کا قبلہ اسرائیل میں مدفون ان کے بڑوں کی قبور ہیں۔ یہ معلون حسین علی نوری جو خود کو بہا اللہ کہتا ہے یہ اس کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں۔ محمد علی باب جو ایک بہت بڑا فتنہ تھا تاریخ میں اور پھر یہ بہائی مذہب میں بدلا یعنی ! قادیانی اور بہائی دونوں کے پیچھے استعمار ہے۔ قادیانیوں کے پیچھے بوڑھا استعمار برطانیہ اور ان کے پیچھے اسرائیل ہے۔ (بیشمار لعنت)
ایران میں جو موجودہ فتنہ ہوا اس میں بہائیوں کا کردار دیکھیں۔ آخر ایک مسلمان بچہ چاہے جتنا بھی گنہگار ہو، جتنا بھی خریدا گیا ہو وہ مسجد، حرم یا کسی امام زادے کے مزار پر تو حملہ نہیں کرے گا۔ یہ لوگ جو حملہ آور تھے بہائی تھے کہ جنہوں نے مساجد اور قرآن جلائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا لیکن الحمد للہ یہاں کے باایمان لوگ اور رہبر معظم کی قیادت کے ذریعے اس فتنے کو دبا لیا گیا۔ لیکن! اب جو فتنہ درپیش ہے وہ باہر سے ہے۔
اگر ہم باہر دیکھیں تو دنیا کا استعمار جو شیطان بزرگ امریکہ اب پوری طاقت کے ساتھ ایران کے گرد جمع ہو رہا ہے۔ مشرق وسطی میں اس کے بحری بیڑے اور کشتیاں آرہے ہیں اور ہمارے خائن نام نہاد مسلم ممالک کے اندر وہ اپنے فوجی اڈوں میں اسلحے کو بڑھا رہا ہے۔ قطر میں وہ خود کو مضبوط کر رہا ہے، سعودی عرب میں مضبوط کر رہا ہے۔ اور متحدہ عرب امارات تو کھلم کھلا ان کے ساتھ ہے۔ باقی خائن اوپر سے کہتے ہیں کہ ایران پر حملہ نہ کرو لیکن! عملاً ساتھ دے رہے ہیں۔
جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو یہ سارے ممالک ایرانی میزائیلوں کو روکتے تھے اور خود مارتے تھے۔ بلکہ اردن کی خائن حکومت البتہ وہاں کے لوگ اچھے ہیں لیکن! خائن حکومت فخر سے بتاتی تھی کہ ہم نے اتنی ایرانی میزائل گرائے ہیں۔ ان کو شرم نہیں آتی تھی کہ ان کے قریب فلسطینی بے دردی سے قتل کئے جارہے ہیں۔ تو اردن کی خائن حکومت نے کسی فلسطینی کو نہ بچایا اور نہ ہی ان کو بچائے جانے پر فخر کیا۔ بلکہ ایک ظالم اسرائیلی کہ جنہوں نے فلسطینوں پر ظلم کیا ان کو قتل کیا اور ناحق ایران پر حملہ کیا تو اسرائیل کو بچانے پر مسلمان ملک اردن کا حکمران فخر کر رہا ہے۔
اسی لیے مغربی لوگوں کو کہیں خطرہ محسوس نہیں ہوتا فقط اس نقطے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے جہاں حقیقی معنوں میں حق کی آواز سنتے ہیں۔ جہاں حقیقی معنوں میں پیغمبرؐﷺ کی آواز ہے جہاں حقیقی معنوں میں قرآن کی آواز ہے جہاں حقیقی معنون میں آل محمدؐﷺ کی آواز ہے۔ وہ نقطہ اس وقت دنیا میں ایران ہے۔
الحمدللہ! ہمارا اپنا ملک پاکستان ان تمام معاملات میں ایران کے شانہ بشانہ ہے اور اس پر ہمیں فخر ہے۔
واقعہ
کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں ایران پر عجیب حالات تھے آدھے ملک پر روس کا قبضہ تھا اور آدھے ملک پر برطانیہ کا قبضہ تھا ۔ ایران میں ایک نام نہاد بادشاہ تھا اور مملکت تقسیم ہو چکی تھی۔ وہ لوگ ایران سے معدنیات اور غذائی چیزیں نکال کر لے جارہے تھے اور ایران میں بہت بڑا قحط تھا۔ اور موجودہ حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شیطان امریکی صدر ایرانیوں کی خاطر حملہ نہیں کرنا چاہتا یہ نام ایسے ہی لیتے ہیں کہ ہم حکومت مخالف کی حمایت میں ہیں اور لوگوں کو بےوقوف بناتے ہیں۔ اصل ہدف ان شیاطین کا معدنیات اور تیل کے لیے حملہ کرتے ہیں ۔ افغانستان اور عراق پر بھی اسی لیے حملہ ہوا تھا۔ اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ وینزویلا پر بھی اسی لیے حملہ ہوا ہے۔ شیطان امریکہ کا ہدف تیل اور معدنیات ہیں۔
اُس وقت بھی یہی حالت تھی۔ ایران میں قحط تھا اور بادشاہی حکومتِ ایران، ان کی غلام تھی۔ یہ تو امام خمینیؒ کی عظیم الشان قیادت میں ایرانی قوم نے انقلاب لایا اور حقیقی اسلام کا چہرہ سامنے آیا۔
اُس وقت ایران کی جو حالت تھی اسے دیکھ کر آیت اللہ نائینیؒ جو اس وقت پورے جہانِ تشیع کے عظیم مرجع تھے۔ آپ نجف میں تھے۔ اور آپ بہت غمگین رہتے تھے کہ ہماری مملکت کا کیا ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ توسل کرتے ہوئے سوگئے اور عالم خواب میں دیکھا کہ ایک دیوار ہے کہ جس پر ایران کا نقشہ بنا ہوا ہے اور اس دیوار کے نیچے کچھ خواتین ، بچے، بوڑھے اور کچھ مصیبت زدہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور دیوار گرنے لگی ہے۔ یعنی مملکت اسلامی ایران کی تباہی نظر آئی۔ اور اس وقت ظاہری حالات بھی ایسے ہی تھے۔
کہتے ہیں کہ اس وقت مجھے امام زمانؑ عج کا دیدار نصیب ہوا۔ اللھم صلی علی محمدؐﷺ وآل محمدؑﷺ۔
امام زمانؑ عج نے اپنے ہاتھ سے گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیا اور بعض روایات میں ہے کہ اپنی انگلی سے سہارا دیا اور دیوار کو قائم کیا اور آیت اللہ نائینیؒ کو مخاطب کیا کہ: جناب نائینیؒ پریشان نہ ہوں، مشکل ہے لیکن! ایران ہم اہلبیتؑ کا گھر ہے ہم اسے گرنے نہیں دیں گے اسے تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ کہتے ہیں کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے شکر کیا اور ایسا ہی ہوا کہ کچھ عرصے کے بعد یہاں عظیم انقلاب اسلامی بپا ہوا اور ایران پوری دنیا کے باطل کے مدمقابل کھڑا ہوگیا۔ آج بھی پوری دنیا کے باطل اور استعمار کو جو ایک اسلامی مملکت جپھ رہی ہے وہ ایران ہے چونکہ! حقیقی معنوں میں اسلام یہاں سے ظاہر ہے۔ باقی دنیا میں جتنی اسلام کی قسمیں ہیں۔ چاہے وہ صوفیزم (تصوف) ہے چاہے باطل کے غلام ظاہری مسلمان ہیں ان کو ان سے کوئی خطرہ نہیں۔ شیعوں میں بھی کئی دھڑے ہیں جیسے غالی جن کو ہم برطانوی اور امریکی شیعہ کہتے ہیں جوکہتے ہیں کہ یہی چند قسم کی مجالس اور ماتمداریوں میں ان کو مصروف رکھو باقی ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایسے شیعہ ان کے منظور نظر ہیں اور انہیں خصوصی مراعات ملتی ہیں۔
حقیقی شیعہ وہی ہیں کہ جو شہدائے کربلا کی سیرت میں ہیں۔ حقیقی شیعہ وہی ہیں کہ جنہوں نے گھروں میں بیٹھ کر ذکر و اذکار سے اسلام کا دفاع نہیں کیا بلکہ امام حسینؑ کی قیادت میں اس زمانے کے ظالم کے مدمقابل کھڑے ہوگئے۔ اور امربالمعروف کیا اور نہی عن المنکر کیا۔ اور لوگوں کو بتایا کہ حقیقی اسلام کی سیرت کیا ہے۔ یعنی شہدائے کربلا کا فقط ذکر کافی نہیں بلکہ ان کی راہ پر بھی چلنا ضروری ہے۔ یعنی! جس طرح وہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر کی راہ پر چلے ۔ مومنین کی مدد زمانے کے امام عج کی نصرت یہ تمام حقیقی پہلو بھی وہاں ہیں۔
ہمارے پیغمبرؐﷺ کا ایک مشہور فرمان ہے کہ آخرالزمان میں ایک قوم ظاہر ہوگی۔ کہ جن کی جزا صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہوگی۔
اور فرمایا:
ا أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ
ان کی صفات ہیں کہ یہ اہل فتنہ سے جنگ کریں گے امربالمعروف اور نہیں عن المنکر کریں گے۔ یہ ہے حقیقی اسلام اور حقیقی تشیع۔
پروردگار ہمیں توفیق دے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے ہم اپنے امامؑ زمان کی نصرت کریں۔ انشاءاللہ
پروردگار مملکت ایران کی اندرونی شر اور بیرونی دشمن سے حفاظت فرمائے۔
پروردگار ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے جو ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیشہ ساتھ دیتا ہے۔ پروردگار ان اسلامی ممالک کی حفاظت فرمائے چونکہ یہ دونوں اسلامی ممالک اس وقت باطل کو چبھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہمیں امام زمانؑ عج کا دیدار نصیب ہو اور ہم امام زمانؑ کی دعاؤں اور نگاہوں میں قرار پائیں۔
الہیٰ آمین۔ والسلام
عالمی مرکز مہدویت_قم