تازہ ترین پوسٹس

امام مہدیؑ عج کا انتظار کیسا ہو؟ سچے منتظر کی طاقت کا کرشمہ

امام مہدیؑ عج کا انتظار کیسا ہو؟
سچے منتظر کی طاقت کا کرشمہ

14 نومبر 2025
مدرسہ الامام المنتظر قم المقدس ایران

استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب۔

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

انتظار فَرج برترین عبادت ہے۔

قال رسول اللّه (ص): افضل اعمال امتي انتظار الفَرَج (البحار: 52 / 122 / 2).
میری امت کا برترین اور بالاترین عمل خدا کی جانب سے فَرَج و فراخی کا انتظار ہے۔

اللھم صلی علی محؐمدﷺ و آل محمدؑﷺ

ہماری احادیث کی کتابوں میں نبیؐ کریمﷺ کا یہ مشہور فرمان ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میری امت کا بہترین عمل ظہور امام مہدیؑ عج صلواۃ اللہ علیہ کا انتظار ہے۔
نبیؐ کریمﷺ نے انتظار کو عمل سے تعبیر کیا ہے جبکہ عام طور پر ہم انتظار کو ایک حالت سمجھتے ہیں۔ یہ حالت بھی ہے کیونکہ عام طور پر انسان جب کسی کا منتظر ہوتا ہے تو چشم براہ ہوتا ہے۔

لیکن انتظار اعمال کا ایک مجموعہ ہے۔ ہم جب کسی عام سے مہمان کا انتظار کرتے ہیں تو اس کے استقبال کے لیے کتنی ہی تیاری کرتے ہیں۔ اور اگر مہمان کا مقام بلند ہو تو ہم کتنے اور لوگوں کو مدعو کرتے ہیں اور تیاری کرتے ہیں۔ تو اگر کائنات کا سب سے بڑا ولیؑ عج آ رہا ہو تو پھر بہت زیادہ کام کرنا چاہیے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ انتظار ایک مومن کے فردی اور اجتماعی اعمال کا مجموعہ ہے۔اللہ اکبر

یعنی انتظار ایک مومن کے فردی اور اجتماعی اعمال کا وہ مجموعہ ہے کہ جس میں وہ خود تیار نہیں ہوتا بلکہ اور بھی لوگوں کو تیار کرتا ہے۔ اسی لیے ہمارے علمائے کرام جو مہدویت پر کام کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مہدویت، تشیع کے اندر ایک مکتب ہے۔ اور لازمی نہیں کہ ہر شیعہ مہدوی ہو۔ چونکہ بہت سارے شیعہ تو ہیں لیکن اپنے زمانے کے امام سے غافل ہیں۔ تو مہدویت شیعوں کے اندر ایک حقیقی مکتب ہے کیونکہ امت اپنے زمانے کے امام کے ساتھ منسوب ہوتی ہے اور اپنے زمانے کے امامؑ عج کی معرفت حاصل کرتی ہے اور اپنے امور میں اپنے امامؑ عج کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ اور یہی اصل امت ہے۔ ورنہ بہت سارے لوگ نام لیتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں، ہم مہدوی ہیں۔ اور ہم بھی مولاؑ عج کا انتظار کر رہے ہیں۔

شیعہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ بارہ آئمہؑ پر ایمان رکھتا ہو۔

سوال: جس طرح ہمارا باقی آئمہؑ پر ایمان ہے آیا بارہویں مولا پر بھی اسی طرح ایمان ہے؟؟

سوال: آیا ہمارے دلوں میں بارویں مولاؑ عج سے اسی طرح محبت کرتے ہیں، جس طرح پہلے امامؑ سے کرتے ہیں۔ اور واقعاً ان کی ہمراہی کے لیے تیار کئے ہوئے ہیں اور ان کے ظہور کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ ہم ایسا کونسا کام کر رہے ہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ہم یہ کام اپنے مولاؑ عج کے لیے کر رہے ہیں؟

 

اہل انتظار باعثِ ظہور ہیں
احادیث کے اندر اہل انتظار کو بہت ہی اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کیونکہ اہل انتظار وہ ملت ہے کہ جو امام زمانؑ عج کے ظہور کا باعث بنے گی۔ اور یہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔ ہم احادیث کے اندر دیکھتے ہیں کہ :
ایک مرتبہ پیغمبرؐ اکرمؔ ﷺ فرما رہے ہیں کہ پروردگارا مجھے میرے بھائی دکھا۔ اصحاب نے کہا: یا رسولؐ اللہﷺ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں۔
فرمایا: انتم اصحابی، أين إخواني۔ آپ میرے اصحاب ہیں۔ کہاں ہیں میرے بھائی؟ پھر فرمایا: میرے بھائی آخرالزمان میں ظاہر ہونگے۔
یعنی وہ دور جو حضرت آدمؑ سے شروع ہوا ہے اب وہ اپنے آخری مراحل میں ہے کیونکہ امام زمانؑ کے آنے کے بعد ایک نیا دور شروع ہوگا۔ اور وہ اصل الہٰی دور ہوگا کہ کہتے ہیں کہ ایسا دور کہ جس میں واقعاً انسان نظر آئیں گے۔ سبحان اللہ

ایک ایسا دور کہ جس میں انسانی اوصاف برجستہ طور پر نظر آئیں گے وہ عصر ظہور سے شروع ہوگا۔ ابھی تو شیطانیت اور حوانیت اور گناہوں کا غلبہ ہے۔ یہ شیطان اور اس کا لشکر خود امامؑ عج کے ظہور کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔ امامؑ عج جس طرح باقی دنیا کے سب ظالمین کو ختم کریں گے خود سب سے بڑا ظالم ابلیس اور اس کا لشکر بھی ختم ہو جائے گا کیونکہ ابلیس نے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اللہ نے اسے اپنی بارگاہ سے نکالا تو اس نے قیامت تک مہلت مانگی۔

لیکن قرآن مجید کیا کہہ رہا ہے سورہ صؔ (81)
اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ (81)
وقت معین کے دن تک۔

 

وقت معلوم
وقت معلوم کے بارے میں ہماری احادیث کہتی ہیں۔ قائمؑ عج کے ظہور کا وقت۔ جس طرح مولاؑ عج دنیا کے سارے ظالمین کو ختم کریں گے تاکہ اللہ کی راہ میں چلنے والے نیک اور صالحین کے دشمن ختم ہوں اور مظلوموں کی داد رسی ہو۔ اسی طرح ابلیس اور اس کا لشکر بھی ختم ہوگا۔ انشاءاللہ

سوال:
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا اُس وقت گناہ ہوگا یا نہیں ہوگا؟؟
یہ ایک الگ بحث ہے۔ انسان گناہ کر سکتا ہے۔ گناہ کی طاقت ختم نہیں ہوگی۔ لیکن! اُس زمانے میں صالحین کا غلبہ ہوگا اور بالآخر ایک ایسا دور ہوگا کہ نیکی گناہ پر غالب ہوگی۔ اور خیر کا شر پر غلبہ ہوگا۔

ہم جس دور میں ہیں کہ جو آخرالزمان کا دور ہے اور اس دور کی حسرت ہمارے آئمہؑ کے اصحاب کے دلوں میں تھی اور یہ وہ خاص دور ہے کہ اس دور کی ملت جو اہل خیر ہیں ان کا مقام تمام ملتوں سے بلند ہے۔ اور اس سے بڑھ کر اور کیا ہے کہ نبیؐ کریمﷺ فرما رہے ہیں کہ وہ میرے بھائی ہیں جو آخرالزمان میں آ رہے ہیں کہ جنہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ اور ہم تقریباً اسی دور میں ہیں۔

فرماتے ہیں کہ: وہ ملت کہ جس نے سفید کاغذوں پر سیاہی سے لکھے ہمارے پیغامات سنے اور پڑھے ہونگے۔ لیکن ان کا مقام اتنی بلندی پر ہوگا۔ اب نبیؐ کریمﷺ ان کے مقام کی حالتیں بیان کر رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ:
ان کا مقام تم اصحاب سے کم نہیں ہوگا۔  وہ ایمان کے اس مقام پر ہونگے کہ سارے کے سارے ہدایت کے مینار ہونگے۔ یعنی! نہ کہ فقط خود مومن ہونگے بلکہ دوسروں کے لیے بھی باعث ہدایت ہونگے۔ پھر انہوں نے ایک مثال پیش کی، فرماتے ہیں کہ:
ان کے ایمان کی حالت یہ ہوگی (یعنی وہ اپنے ایمان کی اس طرح حفاظت کریں گے) کہ جیسے ایک شخص کے ہاتھ پر جلتا ہوا انگارا رکھ دو اور وہ تکالیف سے گذرتا ہے۔ اہل ایمان بھی اسی طرح تکالیف اور مصائب سے گذریں گے لیکن اپنے ایمان کی حفاظت کریں گے۔ اور وہ اس راہ میں جہاد کریں گے۔ حالانکہ انہوں نے ہمیں نہیں دیکھا ہوگا۔ پھر فرمایا:
اللہ نے مجھے ان کے نام بتائے ہیں حتی ان کے والدین کے نام بتائے ہیں۔ سبحان اللہ

یعنی یہ وہ دور ہے کہ جس میں صاحبان ایمان ہیں اور جو صاحبان عمل ہیں جو دین کی خاطر اور راہ آل محمدؐﷺ میں اپنے قدم اٹھاتے ہیں ان کا مقام یہ ہے کہ پیغمبرؐ اسلامﷺ انہیں اپنا بھائی کہہ رہے ہیں۔ اسی لیے آپ دیکھیں کہ انتظار اور بالخصوص زمانہ غیبت کے منتظرین کی جانب بہت زیادہ توجہ ہے۔

ہماری مہدویت سے متعلق احادیث میں بہت زیادہ گفتگو غیبت اور انتظار پر ہے۔
زمانہ غیبت کی مشکلات؟۔ زمانہ غیبت میں کیا ہوگا؟۔ اہل انتظار کون ہیں؟۔ اہل انتظار پر کیا کیا مصائب آئیں گے اور وہ کس طرح ثابت قدمی دیکھائیں گے؟۔ انتظار کیا ہے؟۔ منتظرین کی خصوصیات کیا ہیں؟۔ منتظرین کون ہیں؟؟۔ یعنی اس میں بہت گفتگو ہے۔

اب اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے کہ امام سید سجادؑ فرماتے ہیں کہ:

اہل انتظار یعنی جو زمانہ غیبت میں ہمارے امرِ ولایت پر ثابت قدم ہوگا فرماتے ہیں کہ اللہ اسے شہدائے بدر و احد میں ہزار ہزار شہداء کا ثواب دے گا۔

یعنی یہ اتنی مقدس زندگی ہے جو ہم گذار رہے ہیں۔ یعنی! آج اگر کوئی امام غائب کے لیے قدم اٹھا رہا ہے خود کو پاک کر رہا ہے اپنے لیے قدم اٹھا رہا ہے اور لوگوں کو بھی راہ مہدویت پر لگا رہا ہے۔ اور لوگوں کو بھی امام زمانؑ عج کی معرفت اور ایک پاک اور صالح زندگی کی جانب دعوت دے رہا ہے تو یہ شخص ہر روز شہدائے بدر و احد کے کا ثواب حاصل کر رہا ہے۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے۔سبحان اللہ!

روایت ہے (اصول کافی، کمال الدین، غیبت طوسی، بحارالانوار، الغیبتہ) کسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اہل انتظار کے بارے میں پوچھا تو مولؑا نے فرمایا:

جو اہل انتظار ہیں، جو اپنے اعمال اپنی صفات میں واقعاً امام زمانؑ عج کے منتظر ہیں جو واقعاً آثار انتظار رکھتے ہیں۔

فرماتے ہیں کہ: یہ وہ لوگ ہیں کہ خیمہ مہدیؑ عج میں رہتے ہیں۔ یعنی یہ ان لوگوں کا مقام رکھتے ہیں کہ جو ہمیشہ اپنے مولاؑ امام زمانؑ عج کی بارگاہ میں رہتے ہیں۔ اس کے بعد مولاؑ خاموش ہوگئے اور پھر فرمایا:
نہیں! ان کا مقام ان مجاہدین کی طرح ہے کہ جو رسولؐ اللہﷺ کی رکاب میں کفار سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں وہی اجر ان کو بھی ملے گا۔ سبحان اللہ

اس لیے اجر ہے ان لوگوں کے لیے کہ جو اس زمانےمیں امام زمانؑ عج کی راہ کی طرف متوجہ ہیں اور اس راہ میں حرکت کر رہے ہیں اور لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں۔

لہذا اس طرح کے پروگرامز میں فقط ایک آدمی کا فرض نہیں ہے بلکہ ہم سب کا فرض ہے کہ اگر خدا نے ہمیں توفیق دی ہے کہ ہم کوئی عملی قدم اٹھائیں۔ جیسے دعائے ندبہ ایک عملی قدم ہے کہ جس سے انسان کی توجہ اور محبت اپنے وقت کے امامؑ عج کے دل میں بڑھ رہی ہے اور انسان اپنے مولاؑ عج کے لیے کچھ کرنے کو تیار ہے تو یہ وہ راہ ہے کہ جس میں ہمارا فریضہ ہے کہ اور لوگوں کو بھی اس جانب متوجہ کریں۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ مہدویت خود تشیعُ میں ایک مکتب ہے، ایک ملت ہے کہ جو امامؑ عج کی خاطر اتنا کام کرے گی کہ بالآخر ان کے اس کام کی وجہ سے مولاؑ عج ظہور فرمائیں گے۔ سبحان اللہ

یہ تو سارے لوگ کہتے ہیں کہ ہم مہدیؑ والے ہیں ، ہم بھی منتظر ہیں۔

*آیت اللہ مرحوم تقی بہجت فومنیؒ اشعار فرمایا کرتے تھے:(اين همه لاف زن و مدعي اهل ظهور۔)
یہ سب لوگ دعوے کرتے رہتے ہیں اور ظہور کے مدّعی بنتے ہیں، (پس چرا يار نيامد كه نثارش باشيم) تو پھر وہ یار (امام زمانہؑ) کیوں نہیں آئے کہ ہم ان پر نثار ہوتے؟(سالها منتظر سيصد و اندي مرد است) برسوں سے وہ تین سو سے کچھ زائد مردوں کے منتظر ہیں،(آنقدر مرد نبوديم كه يارش باشيم) لیکن افسوس ہم اتنے مرد (وفادار) نہ بن سکے کہ ان کے مددگار بنتے۔(اگر آمد، خبر رفتن ما را بدهید) اور اگر وہ آ جائیں تو میری خبرِ رخصتی (وفات) پہنچا دینا،(به گمانم که بنا نیست کنارش باشیم) شاید میری قسمت میں یہ نہیں لکھا گیا کہ میں ان کے ساتھ رہ پاؤں۔اللہ اکبر

فرماتے ہیں کہ:
یہ جو لوگ نعرے لگاتے ہیں کہ ہم بھی منتظر ہیں ہم بھی ظہور کے مشتاق ہیں یہ آپ صرف زبان کی حد تک کہہ رہے ہو کہ ہم اہل ظہور ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو پھر ہمارا محبوب امام پھر ظہور کیوں نہیں کر رہا تاکہ ان کے قدموں میں ہم اپنی جانیں نثار کریں۔

اگر ہم سچے ہوتے تو ہمارا امام کب کا ظہور کر چکا ہوتا یقیناً ہم سچے نہیں ہیں۔ یقیناً ہم اس مقام پر نہیں پہنچے کہ اپنی صداقت مولاؑ عج کے سامنے ثابت کریں۔ ہم بہت سارے لوگ ہیں کہ جو صرف اپنی زبان کی حد تک یا شائد حلق کی حد تک مہدوی ہے اور ابھی وہ رنگ مہدویت خوشبوء مہدویت ہمارے وجود سے، ہمارے احساسات سے ہمارے افکار سے اور ہمارے عمل سے ظاہر نہیں ہو رہی۔

 

منتظر کیا ہے؟
منتظر ایک خاص صفات اور اعمال کے ایک مجموعے کا نام ہے۔ منتظر کی خصوصیات ہیں۔ مثلاً ایک اہم ترین جو خصوصیت ہے کہ جس کی طرف میں صرف اشارہ کروں گا کہ:

اہل انتظار، اہل یقین ہیں اہل شک نہیں ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیوں مولا نہیں آ رہے ؟؟ ان کا سوال یہ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے عمل سے مولا عج کے ظہور کو مجسم کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ!

امام محمد باقرؑ کے فرمان کے مطابق منتظر کون ہیں؟ فرماتے ہیں کہ:
وہ لوگ کہ جو اہل انتظار ہیں، اہل معرفت ہیں ان کی نشانی یہ ہے کہ: فرماتے ہیں:
من مات ھو من عارف لامامہ ۔۔۔۔
جو شخص اس دنیا سے جائے کہ زمانے کے امام کی معرفت رکھتا ہو تو پھر اس کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ظہور پہلے ہو یا بعد میں۔
چونکہ  اہل انتظار اہل معرفت ہیں اور اہل معرفت اہل یقین۔ اور پھر اس کے بعد فرماتے ہیں کہ:

جو شخص اس عالم میں دنیا سے جائے کہ وہ زمانے کے امامؑ کی معرفت رکھتا ہو وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ اپنے زمانے کے امام کے خیمہ میں ہو ۔اس شخص کی مانند ہے کہ جو قائمؑ عج کے خیمہ میں۔

اب اپ خود احساس کریں کہ جو امام کے خیمے میں ان کے ساتھ رہ رہا ہوں وہ کیسا ہوگا۔ اپنے عمل میں اپنی صفات میں؟
یہ جو میں نے عرض کیا کہ اہل انتظار ہی اہل یقین ہیں۔ یہ لفظ معرفت سے ہے چونکہ! ہمارا سب سے اہم ترین وظیفہ بلکہ منتظرین کا سب سے پہلا وظیفہ یہ ہے کہ وہ زمانے کے امام کی معرفت پیدا کریں اور معرفت وہی یقین ہے۔

1 ۔علم
2۔ معرفت
ہماری اردو زبان کی یہ کوتاہی ہے کہ ہم علم و معرفت کو اکھٹا بیان کر دیتے ہیں اور ایک ہی معنیٰ میں لے آتے ہیں۔ یعنی جاننا پہچانا وگرنہ علم اور معرفت میں بڑا فرق ہے۔ ہر عالم کے لیے لازمی نہیں ہے کہ وہ عارف بھی ہو لیکن ہر عارف عالم ہوتا ہے چونکہ معرفت سے پہلے کچھ نہ کچھ اگاہی ہوتی ہے کچھ نہ کچھ علم ہوتا ہے۔ علم جو ہے وہ لازمی نہیں ہے کہ اس کے ساتھ عمل بھی ہو اس لیے عالم کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔: عالمِ باعمل، عالمِ بے عمل۔

لیکن عارف حتمأ با عمل ہوتا ہے۔ علم کا تعلق ہماری عقل سے ہے، معرفت کا تعلق ہماری روح سے ہے،علم تحصیلی ہے۔

علم کی دو قسمیں ہیں:علم حصولی، علم حضوری۔
علم حصولی دراصل عقلی ادراکات ہیں استدلالات ہیں۔ یعنی ہم پیچیدگیوں کو اپنی عقل سے حل کر رہے ہیں لازمی نہیں ہے کہ اس کے مطابق عمل کر رہے ہوں۔ لیکن معرفت کیا ہے؟؟ یعنی! اپنے پورے وجود سے اس راہ میں قدم اٹھا رہے ہیں یعنی خود حقائق کی دنیا کے اندر حاضر ہیں۔ اہل معرفت اہل یقین ہیں اس لیے اہل معرفت کو اہل کشف و شہود اہل مُکاشفہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ صاحبان کرامت ہوتے ہیں۔

ہمارے آئمہؑ علیھم السلام نے زمانے کے امام کا علم نہیں مانگا بلکہ زمانے کے امام کی معرفت مانگی ہے۔ یعنی اتنا پڑھو اس موضوع کو اس کا اتنا کام کرو فکری اور عقلی اعتبار سے اپنے سارے شبہات دور کرو اپنے اعتراضات دور کرو ماہرین مہدویت سے استفادہ کرو کہ اپ فکری اور عقلی اعتبار سے کامل اس موضوع پر مطمئن ہو جاؤ تو پھر اپنے امام سے تمسک شروع کرو پھر اپنے امام کی راہ میں قدم اٹھانا شروع کرو یعنی یقین تک پہنچو۔ یعنی پھر ان کے ان ناصروں میں سے ہو جاؤ کہ جو مولا عج کے لیے قدم اٹھا رہے ہیں جس طرح کے آیت اللہ بہجتؒ فرما رہے ہیں کہ صرف نعرہ نہ ہو صرف زبان کی حد تک نہ ہو واقعا اپنے اپ کو مولاؑ عج کی راہ پہ فدا کریں گے۔

قدم اٹھائیں، زمانہ غیبت کے ناصرین کا مقام زمانہ ظہور کے ناصرین سے بلند ہے۔ اور ان سے بڑھ کر ہے۔ زمانہ غیبت کے ناصرین زمانہ ظہور کے ناصرین سے بھی بڑھ کر ہے چونکہ وہ تو پھر بھی امام کو دیکھ رہے ہیں یہ کسی کو نہیں دیکھ رہے اور اپنے مولا کی راہ میں قدم اٹھا رہے ہیں۔ اسی لیے ان کو احادیث میں کہا گیا ہے کہ:

أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ‌

نبیؐ کریم ﷺ سے جو ایک حدیث ہماری کتابوں میں موجود ہے فرماتے ہیں کہ آخر الزمان ایک امت آئے گی جو آپ صدر اسلام کے لوگوں سے بھی بڑھ کر ہوگی یا روایات میں کہ ان کا مقام اپ کی طرح ہوگا اور وہ کون ہے فرماتے ہیں کہ جو آخر الزماں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کریں گے اور اہل فتنہ و فساد سے جنگ کریں گے۔ اب یہ ساری صفات منتظر کی تو انتظار ایک مکتب ہے، انتظار ایک راہ ہے جس کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔

 

آیت اللہ مرحوم شیخ حسن علی نخودکی اصفہانیؒ

بہت بڑی شخصیت ہیں۔ ان کی قبر مشھد مقدس میں ہے۔ انشاءاللہ! کہ ان کے بارے میں مذید واقعات بھی بیان کریں گے ۔ ایک بہت بڑی شخصیت تھے۔ یہ ان علماء میں سے تھے جو صاحب معرفت تھے۔ حتیٰ امام خمینیؒ کہ جب ان کی عمر مبارک تیس یا چالیس سال کی تھی تو اس وقت انہوں نے ان کا دیدار کیا اور ان سے کچھ مانگا اور انہوں نے امام خمینیؒ کو ایک ہدیہ بھی کیا ۔

واقعہ: امام خمینیؒ حرم امام رضاؑ علیہ السلام گئے اور وہاں ان کا دیدار کرتے ہیں چونکہ یہ وہیں تشریف فرما تھے۔ ان پر مولاؑ کی خاص عنایت تھی۔ تو امام خمینیؒ نے ان سے کیمیا مانگا۔ کہ اپ ہمیں کیمیا دیں۔

کیمیا: ایک ایسا معنوی روحانی تحفہ ہے کہ جس سے انسان صاحب کرامات ہے اور جو چاہے حاصل کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ کیمیا میں دینے کو تیار ہوں لیکن ! مجھے پہلے ضمانت دیں کہ اپ اس الہی عنایت کو صرف راہ خیر میں استعمال کریں گے۔ اور کبھی بھی راہِ شر میں یعنی کبھی بھی اس طرح استعمال نہیں کرنی کہ اس سے کسی کو نقصان پہنچے۔ فرمایا: آیا ایسی ضمانت دے سکتے ہیں؟
فرمایا: ایسی ضمانت تو میں نہیں دے سکتا۔ تو پھر انہوں نے کہا میں آپ کو پھر ایک اور ایسی چیز دیتا ہوں جو محض خیر و برکت ہے۔ اور وہ ہمیشہ آپ کے لیے سعادت کا باعث ہے تو انہوں نے پانچ نکتے بیان کیے ایک انہوں نے ایک خوبصورت سا دستور العمل دیا کہ ایک ریاضت کا طریقہ دیا کہ ہر نماز کے بعد وہ پانچ عمل ہے پہلا عمل کیا ہے

1۔ آپ بعد از نماز آیت الکرسی کی تلاوت کریں
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚاَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ وَ لَا یَـٴُـوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(255)

2۔ تسبیحات حضرت زہراؑ
34 اللہ اکبر، 33 الحمدللہ، 33 سبحان اللہ۔

3۔ تین مرتبہ سورہ الاخلاص کی تلاوت
قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ (1)  اَللَّـهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ (4) ۔

4۔ تین مرتبہ درود پاک پڑھیں
اللھم صلی علی محمدؐﷺ و آل محمدؑﷺ۔

5۔ تین مرتبہ سورہ الطلاق کی آیت نمبر دو اور تین کی تلاوت ہے
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّـٰهَ يَجْعَلْ لَّـهٝ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهٝ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٝ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ۚ قَدْ جَعَلَ اللّـٰهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْرًا (3)

اس کے بعد اللہ تعالٰی سے مانگیں جو کچھ مانگنا ہے بہت سارے احباب سے سنا ہے کہ جنہوں نے بھی یہ عمل اپنی زندگی کا حصہ بنایا خدا نے ان کو بے پناہ مقامات عطا کیا ان کی دعائیں ہمیشہ مستجاب رہیں ہیں۔ بے شک! حق ہے۔

کہتے ہیں کہ آیت اللہ مرحوم شیخ حسن علی نخودکی اصفہانیؒ ایک مرتبہ اپنے شاگرد کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو اس زمانے میں نئے نئے جو ہیں وہ جہاز آئے تھے اور لوگ بڑے حیران تھے کہ انسان جو ہے وہ پرواز کر رہے ہیں۔ اس زمانے میں نئی نئی ٹیکنالوجی آئی تھی تو شاگرد نے کہا کہ: قبلہ! اب تو دنیا جو ہے بلکہ یہ جو ہمارے دشمنانِ عالم اسلام کہاں پہنچ گئے۔ اب یہ تو ہوا میں پرواز کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے جو ہے لوہے کے کوے بنا لیے ہیں۔ چونکہ اُس زمانے میں عام لوگ ان کو یہی سمجھتے تھے کہ یہ کوئی لوہے کے کوے ہیں اور یہ لوہے کے کوے میں بیٹھ کر جو ہے وہ اوپر سے حملے کرتے ہیں بم پھینکتے ہیں ۔ اور آپ کہتے ہیں کہ مولؑا جو ہیں وہ تو تلوار و نیزے  کے ساتھ آئیں گےتو ان کا ہم کیسے مقابلہ کریں گے؟

اب یہ بھی ایک عام طور پر لوگوں کے اندر ایک شبہ اور لوگ سمجھتے ہیں کہ مولاؑ عج تلوار کے ساتھ آئیں گے حالانکہ وہ تلوار تبرکات میں سے ہے۔ امیر المومنینؑ کی تلوار ہوگی یا عصائے موسیٰؑ ہوگا تو وہ گزشتہ انبیاءؑ اور حجات الہی کے تبرکات ہیں۔ ورنہ امام زمانؑ عج کی جنگ علم کی جنگ ہے اس میں اسی زمانے کی ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہوگا۔ آخر انہوں نے فتح پانی ہے۔ انشاء اللہ

لیکن اب انہوں نے بھی اُسی پرانے انداز میں کہا کہ مولاؑ عج تو ان چیزوں کے ساتھ آئیں گے تو دشمن نے تو لوہے کے کوے بنا لیے ہیں اور اس زمانے میں نئی نئی گاڑیاں بھی تھیں۔ کہ اب پہلے انہوں نے گاڑیاں بنائی یہ لوہے کے ڈبے بنائے اس میں بڑی سپیڈ سے ہی بھاگتے ہیں۔ اور اب انہوں نے لوہے کے کوے بنا لیے۔ (تو آیت اللہ حسن علی نخودکیؒ کا یہ واقعہ موجود ہے آپ اسے گوگل پر بھی سرچ کر سکتے ہیں۔ یہ مسند واقعہ ہے) تو ہنس پڑے انہوں نے کہا کہ بیٹا دیکھو ایک وہاں کوئی کیل پڑا تھا انہوں نے وہ کیل زمین میں گاڑ دیا۔ جب زمین میں گاڑھا تو انہوں نے کہا دیکھو تمہیں کوئی گاڑی چلتی ہوئی نظر آرہی ہے؟؟۔ شاگرد کہتا ہے کہ:
میں نے دیکھا کہ جیسے زمانہ رک گیا ہو۔ اور سڑکوں پر جو گاڑیاں چل رہی تھیں وہ رک گئی حتی گھوڑا گاڑی، گدھا، موٹر کار جو کچھ تھا سب رک گیا۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہر چیز رک گئی لوگ اپنی گاڑیوں سے اتر کر دیکھ رہے تھے کہ کیا ہوگیا ہے۔ گاڑیاں چل ہی نہیں رہیں، گدھا گاڑی نہیں چل رہی، گھوڑے جو ہیں وہ رک گئے، جانور رک گئے، انسان رک گئے ہر شئے رک گئی جیسے زمانے کی ہر حرکت رک گئی تھی۔ پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا اور کیل کو نکالا تو ایک دم ساری چیزیں دوبارہ چلنی شروع ہو گئیں۔ یعنی گاڑیاں بھی چلنی شروع ہو گئیں اور گدھا گاڑی بھی چلنی شروع ہوگئی۔ دنیا کا نظام رواں دواں ہو گیا انہوں نے کہا کہ:

میں امام مہدی کے ناصروں کا غلام ہوں بلکہ ان کے غلاموں کا غلام ان کے نوکروں کا نوکر لیکن! اللہ کی مجھ پر یہ عنایت ہے کہ میں چاہوں تو اسی وقت اپنے ارد گرد ہر قسم کی حرکت کو روک سکتا ہوں۔ میرے پاس اتنی طاقت ہے۔ اب خود سوچو کہ مہدیؑ عج کے ناصروں کے پاس کیا طاقت ہوگی۔ سبحان اللہ!

لہذا آپ ان چیزوں کو دیکھ کر نہ گھبرائیں ۔ کیونکہ جب وہ آئیں گے تو یہ چیزیں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ انشاءاللہ!

امامؑ عج اپنے دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ہے اللہ نے ان کو بے پناہ طاقتیں دی ہیں اصل مسئلہ ہمارا ہے کہ ہم اپنے مولا کے لیے تیار ہوئے ہیں یا نہیں؟؟۔ آیا ہم مکمل طور پر اپنے زمانے کے امامؑ عج کے لیےآمادہ ہیں یا نہیں؟؟۔

ہماری آمادگی وہ شرط ظہور ہے۔ کہ آج بھی فرزند زہراؑ عج زمانے کی کربلا میں منتظر ہے کہ میرے ناصر پہنچیں۔ تاکہ اس لشکر شر کو، اس لشکر ابلیسی کو جنہوں نے پوری دنیا پر ظلم و فساد کی تاریکی ڈالی ہوئی ہے روکیں۔ آپ دیکھیں کہ کتنا ظلم ہو رہا ہے اس وقت کتنے لوگ گناہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس وقت کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ ہر ہر مومن کا دل اِس وقت ٹوٹا ہوا ہے اور خود مولاؑ عج کو ناصر چاہیے کہ جس طرح اُس وقت کربلا میں سید الشہداءؑ کے پاس 72 تھے  آج مہدی کو 313 چاہیے بالآخر امامؑ عج نے پوری دنیا کو اپنے اختیار میں لینا ہے اور پوری دنیا کا نظام ٹھیک کرنا ہے آقاؑ عج کو یار و مددگار چاہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے دیکھیں ہم ان لوگوں میں سے قرار پائیں جو امام زمان عج کا انتظار ختم کرنے والے ہیں اور اپنے مولاؑ عج کی خدمت گزار ملت اور خدمت گزار ناصروں میں سے قرار پائیں۔ الہٰی آمین۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت۔ قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *