تازہ ترین پوسٹس

اللہ کو کیسے دیکھا جاتا ہے

سو سوال و جواب ورکشاپ
دوسرا سوال اور جواب
اللہ کو کیسے دیکھا جاتا ہے؟

استاد محترم جناب علی اصغر سیفی صاحب

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سو سوال اور سو جواب ورکشاپ کے حوالے سے دوسرا سوال ہے کہ جو مولا علیؑ سے ہوا اور اسی طرح پیغمبرؐﷺ سے بھی ہوا۔

پوچھا گیا کہ آیا آپ اللہ کو دیکھتے ہیں؟ جواب ملا کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی ذات کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کریں۔

اسی طرح یہ بھی سوال ہوا کہ آیا خدا روزِ قیامت دیکھا جائے گا؟ یہاں دیکھنے سے کیا مراد ہے؟۔
عموماً یہاں جو جواب دیا جاتا ہے کہ:
خدا دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ پھر ذہنوں میں سوال آتا ہے کہ :
دل کی آنکھ سے دیکھنے سے کیا مراد ہے؟۔ اس سارے موضوع کو ہم مختصر اور آسان الفاظ میں حل کریں گے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ بدن کی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا چاہے آپ سادے انداز سے دیکھنے کی کوشش کریں یا پھر ٹیکنالوجی کا استعمال کریں جیسے مختلف قسم کے آلات ہیں کہ جن سے لوگ کہکشاؤں کو دیکھتے ہیں یا بدن کے اندر یا کسی چیز کے اندر ایسے بیکٹریا آپ دیکھ رہے ہیں جو ان آلات کے بغیر نہیں دیکھی جا سکتی تو انسان جو دیکھنے میں اتنی قوت پیدا کر چکا ہے کہ کہکشاؤں میں کڑوڑوں کلومیٹر دور ایک چیز کو دیکھ رہا ہے اور غذا اور بدن میں ایسی ایسی چیزیں، جراثیم اور بیکٹریا دیکھ رہا ہے کہ جوکبھی بھی پہلے کسی انسان کو یہ میسر نہیں تھا کہ وہ دیکھے اور یہ ٹیکنالوجی اور یہ علمی ذرائع پہلے موجود ہی نہیں تھے۔ تو اتنی ترقی کے باوجود آیا انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے؟

قرآن مجید اس حوالے سے فیصلہ کُن انداز سے فرما رہا ہے کہ:
سورہ الانعام
لَّا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْـرُ (103)
اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے، اور وہ نہایت باریک بین خبردار ہے۔

ہم جو کچھ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں خدا اسے دیکھتا ہے اور ہماری آنکھوں کی اشاروں کو دیکھتا ہے بلکہ بات اس سے بڑھ گئی۔

امام جوادؑ سے اس آیت کے حوالے سے جب پوچھا گیا تو مولاؑ نے اس سے اگلا قدم بیان کر دیا۔ کہ:
(یہ آنکھ تو دور کی بات انسان، وھم اور خیال کہ جن کی وسعت انسانی آنکھ سے زیادہ ہے اس میں بھی انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔) مثلاً آپ بہت سی چیزوں کو دیکھتے ہیں اور پھر اپنے ذہن میں کہانیاں بناتے ہیں خیالات بناتے ہیں اور پھر اس سے بڑھ جاتے ہیں۔ تو دنیائے خیال جو باہر کی دنیا سے بڑی ہے اس میں بھی انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔
یعنی ہم کسی صورت میں بھی نہ اپنے خیالوں میں اور نہ ہی اپنی بدنی آنکھ سے خدا کو دیکھ سکتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کی بہت ہی سادی سے وجہ ہے۔

اللہ لامحدود ہے اور ہم محدود ہیں، لا محدود کبھی بھی محددود میں نہیں سما سکتا، ہمارے خیالوں کی وسعت کہاں اور اللہ جیسی لا محدود ذات کہاں کہ جہاں کوئی حد ہی نہیں۔

تو کس طرح ہوسکتا ہے یعنی دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ احاطہ کریں۔ چاہے اپنے دیکھنے میں یا خیالات میں تو اللہ تعالیٰ کا احاطہ ہو ہی نہیں سکتا۔

یعنی ہم کسی ایسی چیز کو دیکھ سکتے ہیں کہ جس کا کوئی قالب ہو، کوئی جسم ہو، جس کی کوئی جہات ہو۔ اور ہم پتہ چلے کہ یہاں سے شروع ہوتی ہے اور یہاں ختم ہوتی ہے۔ لیکن ایک چیز جو لامحدود ہے انسان اسے نہیں دیکھ سکتا۔

ایک سادہ سی مثال دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا تو مادی وجود ہی نہیں ہے۔ وہ تمام چیزوں کا خالق ہے، خدا کی بعض بنائی چیزیں ہم دیکھ ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ اتنی وسیع ہیں جیسے ہم اس کی مثال دیتے ہیں ھوا۔

ھوا جس طرح ہم کہتے ہیں اللہ زمین میں ہر جگہ ہے تو ہوا بھی زمین میں ہر جگہ ہے تو اب چونکہ ھوا کی وسعت بڑھ گئی ہے تو ہم ھوا کو دیکھنے پر قادر نہیں ہیں یہ فقط سمجھانے کے لیے مثال ہے تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ جب کسی چیز کی وسعت ہمارے دیکھنے کی وسعت سے بڑھ جائے تو ہم اسے نہیں دیکھ سکتے۔

امرالمومنینؑ سے سوال ہوا کہ: آپ عبادت کے وقت اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں؟ فرمایا کہ: میں کس طرح اس ہستی کی عبادت کر سکتا ہوں کہ جسے نہ دیکھا ہو۔ کہا کہ کس طرح دیکھتے ہیں؟ فرمایا کہ: ہمارے سر (چہرے) والی آنکھ سے اللہ کو دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ ہماری حقیقی ایمان سے اور دل کی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

پروردگار کی نشانیوں سے ہمیں اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہاں دیکھنے سے مراد وہی قلب کی آنکھ ہے، معرفت یعنی انسان یقین کی منزل تک پہنچے۔ اللہ کو ہم دوسری چیزوں کے ساتھ مقائسہ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ یعنی انسانوں کے ساتھ مقائسہ کر کے نہیں دیکھ سکتے خدا ہمارے حواس خمسہ سے قابل درک نہیں ہے بلکہ اللہ صرف اور صرف دل کی آنکھ سے قابل درک ہے یعنی انسان یقین تک پہنچے، غور و فکر کرے اور معرفت حاصل کرے۔

اسی طرح کا سوال ہمارے پیغمبرؐﷺ سے ہوا کہ:
( ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ )کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضوؐر ﷺ نے جواب میں فرمایا: ہاں میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا۔

ایک مقام پر معصومؑ سے یہی سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ: جی ہاں دل کی آنکھ سے دیکھا ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ فرمانِ پروردگار نہیں سنا کہ:
سورہ النجم۔(مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(11))
دل نے اس بات کو جھٹلایا نہیں جس کو آنکھوں نے دیکھا۔

یعنی اللہ آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا صرف اور صرف دل سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایرانی شاعر نے اس حوالے سے ایک خوبصورت نظم لکھی ہے: میں نے سناہے کہ ایک خلاباز آسمان کی وسعتوں سے واپس پلٹا وہ کہتا ہے کہ: میں تو خلاؤں میں ہر جگہ گیا ہوں اور وہاں تو میں نے خدا کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی فرشتے کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ ایک عالم دین نے یہ سُن کر کہنے لگے کہ اس خلا باز کو میرا پیغام پہنچائیں کہ جناب خلا باز خلا میں چند قدم اڑے اور پرواز کی اور اس سے تو آپ نہ خدا کی سلطنت کو دیکھ سکے اور نہ ہی اللہ کو۔

خدا کی سلطنت کا پتہ چند قدم خلا میں جانے سے تو پتہ نہیں چلے گا۔ اگر آپ کہکشاؤں میں، خلاؤں اور آسمان کی وسعتوں میں بھی چلے جائیں پھر بھی خدا کو نہیں دیکھ سکتے۔ خدا کو دیکھنا میسر ہے صرف اور دل کی آنکھ سے نہ کہ جسمانی آنکھ سے، انسان کا جسم خدا کے عشق میں عاجز ہے اور یہ کام اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ انسان کی روح ہے۔

ایک حدیث قدسی ہے: کہ اللہ کہیں بھی نہیں سما سکتا مگر مومن کے دل میں۔
دل یعنی جو ہماری اندرونی روح اور نفس کی وسعت بہت زیادہ ہے اور دل سے مراد وہ خون کو گردش دینے والا لوتھڑا نہیں ہے بلکہ دل سے مراد وہی روحی قلب ہے جو لامحدود ہے اور جس طرح خدا لامحدود ہے اسی طرح مومن کا دل بھی لا محدود ہے اور علم و معرفت کی کوئی حد نہیں ہے یعنی ماں کی گود سے قبر کی لحد تک یعنی انسان کو اللہ نے علم و معرفت حاصل کرنے کے لیے لامحدود وسعتیں دی ہیں دل کی دنیا بڑی وسیع ہے اسی لیے لامحدود لامحدود میں سما سکتا ہے کسی چیز کے بارے میں لازمی نہیں کہ انسان دیکھ کر حاصل کرے یہ علم و معرفت سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے مثلاً اس وقت ہم دنیا کے آغاز کے بارے میں جانتے ہیں، انبیاؑء اور آئمہؑ کے بارے میں جانتے ہیں، ہمیں یقین ہے کہ قیامت آئے گی اب ان چیزوں کو ہم نے دیکھا نہیں ہے لیکن ان پر دیکھی جانے والی چیزوں سے بھی زیادہ یقین ہے تو لازمی نہیں کہ انسان دیکھ کر یقین کرے۔

علم آگاہی اور شناخت میں اتنی طاقت ہے کہ حتی وہ دیکھی جانے والی چیزوں سے بھی برتر ہے۔
کسی نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ آیا خواب میں دیکھا جا سکتا ہے؟
(بعض لوگ اس طرح کے واقعات نقل کرتے ہیں اور اس طرح کے واقعات بیشتر اہلسنت کے مکتب میں ہیں۔)

تو امامؑ نے فرمایا:  ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ نہ خواب میں نہ بیداری میں حتی نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
کیونکہ انسان کی آنکھیں محدود ہیں، وہ تو بہت ساری مادی چیزوں کو بھی نہیں دیکھ سکتا جیسا کہ ہم ھوا کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ جیسے ہم آواز اور خوشبو، روح اور اللہ کی بنائی ہوئی کتنی ہی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے اور اللہ تو ان سب چیزوں سے اوپر ہے۔ اسی طرح ایک اور موضوع قرآن مجید میں بیان ہوا اور یہ ہمارے لیے بہت بڑا درس ہے۔ اور جب حضرت موسیٰؑ نے عرض کی:

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ- قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ۔ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ-
(اور جب موسیٰ ہمارے وعدے کے وقت پر حاضر ہوا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا،تو اس نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں  (اللہ نے) فرمایا: تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا (نہ دنیا میں نہ آخرت میں)۔)

حیرت ہے کہ ہمارے دیگر مکاتب اسلام یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں بھی دیکھا جا سکتا ہے اور بعض مکاتب یہ کہتے ہیں کہ آخرت میں ضرور دیکھیں گے جبکہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ ہرگز نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں۔ اب یہ درخواست حضرت موسیٰؑ نے کی جبکہ وہ نبیؑ تھے بہت ساری چیزوں کو جانتے تھے کہ محال ہے پھر کیوں کی۔

اس حوالے سے امام رضاؑ کا ایک بہت ہی خوبصورت فرمان ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کوہِ طور سے اللہ کی جانب سے دین لے کر آئے وہ جو تختیاں تھیں اور لوگوں کو آکر بتایا کہ اللہ کی جانب سے پیغامات لے کر آئے ہیں تو لوگوں نے کہا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ نے خدا کو دیکھا ہے اورہم بھی خدا کو دیکھنا چاہتے ہیں ورنہ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں وہ جناب موسیٰؑ کی اللہ سے کلام پر شک کا اظہار کر رہے تھے۔

خیر، سات لاکھ لوگوں میں سے ستر نفر کا انتخاب ہوا جو حضرت موسیٰؑ کے ساتھ کوہ طور پر گئے۔ حضرت موسیٰؑ نے ان کا تقاضا اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا۔ اور پھر اس وقت خدا کی ہر طرف سے آواز آئی اور واضح آواز کے باوجود انہوں نے کہا: اے موسیٰؑ ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے۔

سورہ اعراف۔ (وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٝ رَبُّهٝ قَالَ رَبِّ اَرِنِـىٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ۚ قَالَ لَنْ تَـرَانِىْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٝ فَسَوْفَ تَـرَانِىْ ۚ فَلَمَّا تَجَلّـٰى رَبُّهٝ لِلْجَبَلِ جَعَلَـهٝ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا ۚ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ (143))
اور جب موسٰی ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا کہ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا لیکن تو پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا، پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے، پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کی کہ تیری ذات پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا یقین لانے والا ہوں۔

یعنی شروع میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ کو ظاہر بظاہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب آسمانی بجلی گری تو سب کے سب مر گئے۔ حضرت موسیٰؑ نے عرض کی پروردگارا اس طرح تو قوم بنی اسرائیل بیشتر بگڑ جائے گی، میں پھر ان کو کیا بتاؤں گا کہ یہ ان کے ستر نمائندے مر گئے ہیں۔ خدا سب کو جانتا تھا تو اب اللہ نے دوبارہ ان کو زندہ کیا۔
یہ موت اللہ سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ خدا کی قدرت کا اظہار ہے اور خدا اپنی صفات سے ملاقات کرتا ہے۔ اللہ نے ان لوگوں کو ایک قسم کا موت سے ہمکنار کر کے اپنی قدرت کا اظہار کیا تھا۔

خیر! وہ جب زندہ ہوئے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم تو نہیں دیکھ سکتے موسیٰؑ لیکن آپ تو دیکھ سکتے ہیں، تو اب دیکھ کر بتائیں کہ اللہ کیسا ہے؟؟۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ کہ اگر کوئی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو تو لازمی نہیں کہ وہ سیدھے راہ پر آئے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ قبروں میں پڑے ہوئے لوگ کہتے ہیں کہ پروردگارا ایک مرتبہ موقع دے دے، خدا کہتا ہے کہ اگر دوبارہ موقع دوں گا تو بھی تم نے یہی کرنا ہے۔ یہ قوم زندہ ہوئی لیکن وہی ہٹ دھرمی تھی۔ اب حضرت موسیٰؑ نے جب ان کی یہ ضد دیکھی تو معذرت خوانا رویے میں کہا کہ اے میرے پروردگار تو ان کی باتیں سن رہا ہے تو اب جو تو بہتر سمجھے وہ کر۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جانتا ہوں اے موسیٰؑ یہ تمھاری درخواست نہیں بلکہ ان کی ہے۔ اب اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو مجھے دیکھ لے گا اور اگر نہیں رہا تو مجھے نہیں دیکھ سکے گا۔

کہتے ہیں کہ پہاڑ پر خدا کی تجلی آئی اور وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوا اور جناب موسیٰ بے ہوش ہوگئے اور جب ہوش میں آئےتو فرمایا:

(سُبْحَانَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ)
پروردگارا! تو تو منزہ ہے اور میں اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کی جہالت پر توبہ کرتا ہوں۔

تو یہ ساری چیزیں بتا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات لا محدود ہے اور ہم اگر خدا کی شناخت رکھتے ہیں تو اس کی صفات اور اس کے افعال سے اور یہ بھی اس کا لطف ہے کہ وہ ہمیں اپنی شناخت دے رہا ہے اور یہی کچھ دیکھنا ہوتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مولا علیؑ اور بی بی زہراؑ تھیں۔ ہم نے انہیں دیکھا نہیں ہے لیکن ہمارا دیکھنے سے بھی زیادہ ان پر یقین ہے تو اللہ کے بارے میں بھی ایسا ہے۔ خدا کی اتنی آیات اور نشانیاں ہیں جہاں میں کہ خود میرے وجود میں اور باہر دنیا میں کوئی چیز بھی اللہ کی نشانیوں سے خالی نہیں یہ خود آنکھ کے دیکھنے سے بھی زیادہ دقیق ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ خدا کو علم و معرفت یعنی دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور دل کی آنکھ سے دیکھنا افضل ہے جسم کی آنکھ کے دیکھنے سے۔

رسولؐ اللہ ﷺ اور معصومؑ کے زمانے میں منافقین جسم کی آنکھ سے دیکھتے تھے اور ایمان نہیں لاتے تھے اور آج ہم نے سیرت کو سنا ہوا ہے، پڑھا ہوا ہے۔ ہم نے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے اور ہمارا ایمان ان منافقین سے قابل مقائسہ نہیں ہے۔ پس دل کی آنکھ قوی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کو اپنے دیکھنے کو ہماری دل کی آنکھ کے سپرد کیا ہے کہ جو افضل ہے اور ان کی معرفت قوی ہے۔

پروردگار ہمیں توفیق دے کہ ہم ان دینی معارف کو بہتر سے بہتر سمجھیں اور ان سے درس لیں اور پروردگار ہمارے علم و دانش میں انشاءاللہ مزید اضافہ کرے۔ آمین

والسلام۔
عالمی مرکز مہدویت_ قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *