تازہ ترین پوسٹس

اللہ تعالیٰ کو کس نے خلق کیا؟ ہمارے لیے ایک اہم درس اور نکتہ

ورکشاپ 100 سوال اور ان کے جواب۔

سوال1 : اللہ تعالیٰ کو کس نے خلق کیا؟
ہمارے لیے ایک اہم درس اور نکتہ؟

استاد محترم جناب علی اصغر سیفی صاحب
عالمی مرکز مہدویت قم

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

علم زندگی ہے اور دنیاوی خواہشات انسان کو مردہ کرتیں ہیں۔ اسی لیے مولا علیؑ علیہ السلام اپنے ایک شعر میں اس بات کا اطمینان کرتے ہیں کہ پروردگار نے کتنی خوبصورت تقسیم کی ہے کہ ہمارے دشمنوں کو مال دیا اور اس میں خوش رکھا اور ہمیں علم دیا۔

علمی حوالے سے ہمیں جتنی بھی معلومات ملیں، انشاءاللہ! کہ وہ توفیق الہٰی ہیں۔ اور ہمیں چاہیے کہ کوشش کریں کہ اسے اپنی روح کی غذا قرار دیں اور اس سے اپنی روح اور باطن کی پرورش کریں۔ اور راہِ خدا میں زیادہ سے زیادہ اپنے اندر عبودیت اور عمل صالح پیدا کریں۔
انشاءاللہ!

ہماری اس ورکشاپ کا پہلا سوال:
اللہ تعالیٰ کو کس نے خلق کیا؟

عام طور پر بچوں اور جوانوں کے ذہنوں میں یہ سوال آتے ہیں اور وہ اپنے علماء اور اساتذہ سے پوچھتے ہیں تو عام طور پر انہیں ڈانٹ پڑ جاتی ہے۔ کہ اس طرح کے سوال نہ کئے جائیں اور خود ہمارے آئمہؑ بھی اصحاب سے فرمایا کرتے تھے کہ اس طرح کے سوال نہ کریں چونکہ اس سے انسان ممکن ہے کہ گمراہ ہو اور بات کو اچھے طریقے سے نہ سمجھ سکے۔ لیکن ! اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ بلکہ اس سوال کا جواب ہے۔

یہ سوال عموماً ہر ایک کے ذہن میں آتا ہے کہ اگر ہم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے؟ اللہ کب سے ہے؟ بالآخر ہر چیز کو کوئی چیز بناتی ہے۔ اور ہر مسبب کا ایک سبب ہے۔ اور ہر معلوم کی کوئی علت ہے اب اس کو علمی انداز سے دیکھتے ہیں:خدا کہاں سے آیا؟
یہ وہ چیز ہے کہ جو ذہنوں میں ہے لیکن! لوگ عام طور پر اسے پیش کرنے سے گھبراتے ہیں تو اسی لیے ہم نے اسی سوال سے آغاز کیا ہے؟

یہ دنیا کا مشہور ترین شبہ یا مسئلہ ہے۔ اور یہ فقط مسلمانوں میں نہیں ہے۔ یا پھر فقط یہودیوں اور عیسائیوں میں نہیں ہے بلکہ ہر مذہب، ملت اور جہاں بھی خدا پر اعتقاد ہے وہاں پر یہ گفتگو ہوتی ہے۔

 

دو انگریز فلسفی
لہذا ہم دو انگریز فلسفیوں کی گفتگو سے آغاز کرتے ہیں۔

۔ 1۔ برٹرینڈ رسل
برٹرینڈ رسل کہتے ہیں کہ میں جان اسٹورٹ مل جو انگلستان کے فلسفی ہیں ان کی زندگی کے حالات پڑھ رہا تھا تو ایک چیز نے میری توجہ اپنی جانب کی کہ جس کی وجہ سے میں چونک گیا۔

واقعہ:
جان اسٹورٹ مِل لکھتا ہے: میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ مجھے کس نے خلق کیا؟۔ یہاں جواب تو یہ دینا چاہیے تھا کہ خدا نے خلق کیا لیکن! والد نے فوراً پلٹ کر سوال کیا: خدا کو کس نے خلق کیا؟۔ برٹرینڈ رسل کہتا ہے:
اس بات نے مجھے بھی پریشان کیا کیونکہ! یہ سوال تو ہر ایک کے ذہن میں ہوتا ہے۔ اب انہوں نے جو تصور کیا یعنی! یہ توحید کے انکار کی طرف آگئے۔ اور کہا: اگر ہر چیز کا سبب ہونا ضروری ہے تو خدا کے وجود کا بھی سبب ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی چیز بغیر سبب کے وجود میں آ سکتی ہے تو خدا کے وجود کو ماننے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

یعنی! کہتا ہے کہ ہر چیز کا کوئی خالق ہےتو لہذا اللہ کا بھی کوئی خالق ہونا چاہیے اور کوئی بھی دین اس چیز کو تسلیم نہیں کرتا کہ اللہ کو بھی کسی نے خلق کیا ہے۔ نتیجتاً ! یہ لوگوں کو دین سے دور کر رہا ہے ۔ کہ سارے دین چھوڑو اور اصل میں مادہ ہی ہے۔ یعنی! ہم خود بخود وجود میں ہیں اور یہ جہان چل رہا ہے اور اب یہ کب سے ہے؟؟ یہ معلوم نہیں اور یہ کب ختم ہوگا؟؟ یہ بھی معلوم نہیں۔

یعنی! ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کے موحد لوگوں کو یہ دین سے اسطرح دور کرتے ہیں۔ یعنی! کہتے ہیں کہ: اگر آپ کو اللہ نے خلق کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے بنایا ہے؟ اب اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ تو شروع سے ہی تھا تو وہ کہیں گے کہ آپ لوگ تو خود ہی کہتے ہیں کہ ہر چیز کا کوئی بنانے والا ہے تو اللہ بھی ایک وجود ہے تو پھر اسے کس نے بنایا ہے۔ جب ہمارے لوگ ان کو جواب نہیں دے پاتے تو کہتے ہیں کہ دیکھو یہ سارے عقیدے ہی غلط ہیں۔

نتیجتاً مادہ گیری اور لبرل عقیدے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم شروع سے تھے ہم مادہ سے خلق ہوئے ہیں اور مادہ کب سے ہے یہ معلوم نہیں۔ یہ لوگ اس طرح کی باتیں کر کے لوگوں کو مادیت کی جانب کھینچتے ہیں۔ انشاءاللہ اس پر ہم بہترین جواب دیں گے۔

 

اس شبے پر تبصرہ

اس شبہ پر فرانس کے ایک مشہور فلسفی ایلکسس کارلے نے تبصرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ:
برٹرینڈ رسل کو یہ اعتراض نہیں کرنا چاہئیے تھا کیونکہ یہ اسکا علمی و فکری شعبہ نہیں تھا۔ یعنی عقائد اور دینی حقائق اس کا شعبہ نہیں تھا، تو ہر شخص چاہے وہ کسی بھی علم کا ماہر ہو، اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے علم پر گفتگو کرے، نتیجتاً وہ اس کو خراب کر دے گا۔ مثال کے طور پر اگر ایک ڈاکٹر فقہی احکام بیان کرے تو وہ فقہ کا بیڑا غرق کر دے گا چونکہ اس نے کونسی فقہ پڑھی ہے  یا پھر ایک فقیہ اگر کسی ڈاکٹر کی جگہ بیٹھ کر نسخے لکھنے شروع کر دے تو پھر لوگ اور مریض ہونا شروع ہو جائیں گے کیونکہ اس نے کونسی طب پڑھی ہے۔ یعنی وہ آدمی جو اپنے کسی علم کی وجہ سے مشہور ہو چکا ہے تو وہ اسی علم تک رہے اور وہیں تک گفتگو کرے باقی چیزوں کو ان کے ماہرین پر چھوڑ دے کیونکہ اگر وہ ہر چیز میں بولنا شروع کر دے گا تو وہ الٹا لوگوں کو پریشان کرے گا کیونکہ ایسے لوگ انسانیت پر ضرب لگاتے ہیں اور یہ لوگ نوع و بشر کے مخالف ہیں اور انسانوں کو خراب کرتے ہیں اور گمراہ کر دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی ایسے ہوتا ہے کہ بعض لوگ ہر چیز میں بولنا شروع کر دیتے ہیں اور الٹا لوگوں کے ذہنوں کو اور خراب کر دیتے ہیں۔

پہلا درس:
جو جس چیز کا ماہر ہے اس حد تک اپنی رائے پیش کرے۔ باقی چیزوں کو ان کے ماہرین پر چھوڑے ۔ کہ وہ اس مسئلے میں رائے دیں۔

 

امام خمینیؒ کا قول (تخصص کی اہمیت)
فرماتے تھے کہ: اب جو تقلید ہو رہی ہے، ممکن ہے کہ ہمیں کل ہر باب میں تقلید کی ضرورت پڑے۔

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان احکام میں ایک مرجع کا مقلد ہے لیکن! اب جیسے جیسے مسائل بڑھتے جارہے ہیں علم بڑھتا جا رہا ہے، لوگوں کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں تو ممکن ہے کہ ایک فقیہ سارے مسائل میں جواب گو نہ ہو اور ممکن ہے کہ آگے فقہ بھی تقسیم ہو جائے۔ مثلاً نماز کا فقیہ علیحدہ ہو، روزے کا فقیہ علیحدہ ہو۔ اسی طرح بازار کے معاملات پر علیحدہ فقیہ ہو ممکن ہے کہ آئیندہ دنیا میں ایسا ہی ہو جیسے ہم ڈاکٹروں میں دیکھ رہے ہیں کہ پہلے تو جانوروں اور انسانوں کا ایک ہی ڈاکٹر ہوتا تھا۔ پھر جانور اور انسان کے ڈاکٹر علیحدہ بنےاور آج ہر مرض کا ڈاکٹر جدا ہے۔

چونکہ علم میں بھی وسعت ہو رہی ہے اور مسائل میں وسعت ہو رہی ہے، آج دل کا ڈاکٹر آنکھ کے مسئلے میں نہیں بولتا ہے اور اگر وہ بولے گا تو خراب کر دے گا اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ جو شخص جس چیز کا ماہر ہے وہ اپنے موضوع پر بات کرے۔ اور باقی چیزوں کو ان کے ماہر کے پاس چھوڑ دے۔ اور یہ اہم ترین درس ہے جو ہم نے یہاں لینا ہے۔

خلاصہ: جو جس چیز کا ماہر ہے صرف اس حد تک بولے اور جس چیز تک آگاہی ہے تو اس حد تک رہے اور اگر وہ کسی اور موضوع میں بولے گا کہ جس کے متعلق اسے آگاہی نہیں ہے تو پھر وہ انسانیت کا دشمن ہے اور یہ نوع بشر کو گمراہ کرتا ہے اور اسے خدا بھی پسند نہیں کرتا۔

ہمیں چاہیے کہ ایسے لوگوں کو نہ سنیں اور ان کو کہیں کہ چونکہ آپ کا اس موضوع سے کوئی تعلق ہی نہیں اور جو اس موضوع کے ماہرین موجود ہیں ان کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔

والسلام

عالمی مرکز مہدویت۔قم

دیدگاهتان را بنویسید

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *