سلسلہ بحث سو سوال و جواب
سوال (1): اللہ تعالیٰ سب کا خالق تو پھر اللہ کا خالق کون ہے؟ ( شبہہ راسل)
تفصیلی جواب
استاد محترم قبلہ علامہ علی اصغر سیفی صاحب
سو سوال اور سو جواب:
اس حوالے سے پہلا سوال جو پیش کیا گیا کہ: خدا ساری کائنات کا خالق ہے تو اس کا خالق کون ہے؟ اس سوال کے مختلف جوابات ہیں لیکن! جو جواب ہم نے منتخب کیا ہے وہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
1 ۔ مختصر جواب
جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ بتائیں کہ کائنات کا کون خالق ہے؟۔
تو وہ کہیں گے کہ شروع میں ایک مادہ خود بخود وجود میں آیا اور آہستہ آہستہ کائنات بنتی چلی گئی۔ یعنی! آغاز مادہ سے ہوا۔ تو ہم پوچھیں گے کہ یہ مادہ جو شعور علم و آگاہی نہیں رکھتا تو اس کو کس نے خلق کیا؟
تو وہ کہیں گے کہ یہ شروع سے ایسے ہی ہے اور اس کو کسی نے خلق نہیں کیا۔
تو یہاں پھر ہمیں یہاں تعجب ہوگا:
کہ آپ ایک آگاہ عالم، باشعور ہستی یعنی! خدا کو چھوڑ کر ایک مادہ کہ جس کے اندر نہ شعور ہے نہ علم ہے اس کو تو اپنا خالق مان سکتے ہیں اور اس کے ابدی اور ازلی ہونے کے قائل تو ہیں اور پروردگار کی ذات کے جس کے اتنے اسمائے حسنہ ہیں اور جس نے اتنی باعظمت کائنات بنائی اور اپنے اتنے نمائندے بھیجے اور آپ اسے چھوڑ رہے ہیں اور اسے ابدی و ازلی نہیں مانتے اور پوچھ رہے ہیں کہ اس کا خالق کون ہے اور آپ الحاد کی جانب جا رہے ہیں اور دین کو چھوڑ رہے ہیں۔
تفصیلی جواب:
ہم سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ جب کسی چیز کو دوسری چیز کی طرف نسبت دی جاتی ہے تو یہاں کتنی قسم کا تعلق ہے۔ اصل میں ہم واجب اور ممکن کی بحث کرنا چاہتے ہیں یہ علمی اصطلاحات ہیں۔ یعنی! علم فلسفہ اور علم الکلام میں ہوتی ہیں۔
لیکن! عام لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتی ہیں اس لیے ہم اسے مثالوں سے واضح کریں گے۔
پہلی بات: ایک چیز کا دوسری چیز سے تعلق ایک لازمی اور ضروری تعلق ہے جیسے ہم دو، چار، چھ ، آٹھ کہتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک چیز آتی ہے کہ یہ جفت اعداد ہیں جیسے معنی ہیں even”، “pair”، اور “couple” جفت کے لیے انگریزی میں۔ جفت کے اردو معنیٰ جوڑا، جو عدد دو پر پورا تقسیم ہوجائے یعنی! طاق کی ضد یا وہ اشیاء جو دو کی تعداد میں ہوں۔
اب ان کا جفت ہونا لازمی ہے اور یہاں کوئی سوال نہیں کرتا کہ یہ کیوں جفت ہیں۔ آپ کہیں گے کہ جب بھی ہم دو، چار، چھ کہیں گے تو یہ جفت ہیں اور کوئی بھی انہیں طاق نہیں کہے گا لیکن! جب کوئی پوچھے؟ پانچ اور جفت کا تعلق کیا ہے؟؟ تو آپ فوراً کہیں گے کہ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ ان کا آپس میں کوئی ربط ہی نہیں ہے۔
اور اگر کوئی کہے آیا پانچ جفت نہیں ہو سکتا تو آپ کہیں گے بلکل نہیں۔ اب اگر پوچھا جائے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟؟
تو آپ کہیں گے کہ یہ شروع سے ایسا ہی قانون ہے۔
یہ وہ چیزیں ہیں کہ جہاں ہم ایک چیز کا ضروری ہونا اور ایک چیز کا بلکل ناممکن ہونا بلکل سمجھ گئے، لیکن دوسری بات ایک دفعہ ایک تعلق امکانی ہے۔
امکانی تعلق: دونوں طرف 50، 50٪ فیصد چیز ہوگی یا پھر نہیں ہوگی جیسے کوئی پوچھے کہ لگتا ہے آج بارش ہوگی کیونکہ موسم تو بنا ہوا ہے۔ تو آپ کہیں گے ظاہراً تو لگتا ہے کہ ہو۔ لیکن! لازمی بھی نہیں ہے کہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ دھوپ بھی نکل آئے تو ایسی چیز جس کا عقل کے نزدیک ہونا ضروری ہو اور نہ ہونا ضروری ہو تو اسے کہتے ہیں (ممکن) ۔
جیسے ہم تمام موجودات اور پوری کائنات ایسے ہی ہے۔
ہم پہلے نہیں تھے پھر ہمیں خلق کیا گیا۔ اور بعد میں بھی ممکن ہے یہاں نہ رہیں اور کسی اور جگہ چلے جائیں۔ یعنی! ہمارا ہونا یا نہ ہونا کسی اور ہستی کی مرضی اور منشاء پر وابستہ ہے۔ اور خود ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ کوئی بھی نہ اپنے اختیار سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی اپنے اختیار سے ختم ہوگا۔
یعنی! ہمارا ہونا، نہ ہونا کسی اور ذات سے وابستہ ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ بارش کا ہونا نہ ہونا، وہ موسم سے وابستہ ہے، ہوسکتا ہے کہ ہوجائے اور ہوسکتا ہے کہ نہ ہو۔ تو کائنات کا وجود بھی کسی ایک ہستی سے وابستہ ہے کہ یہ اسی طرح رہے یا نہ رہے۔
اب یہاں آپ سمجھ جائیں کہ وہ ذات جو خود مستقل ہے، بااختیار ہے، اپنے اوپر قائم ہے، اور اس پر کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں ہے، کوئی اس پر صاحب اختیار نہیں ہے اور نہ وہ کسی سے وابستہ ہے اور وہ خود اپنے اوپر قائم ہے اسے ہم واجب الوجود کہتے ہیں لیکن باقی جو کائنات ہے یہ اپنے ہونے نہ ہونے میں کسی سے وابستہ ہے یہ اپنے اوپر قائم نہیں ہیں نہ ہی یہ اپنی مرضی سے پیدا ہوئے ہیں اور یہ جس حالت میں ہیں یہ اپنی مرضی سے نہیں ہیں۔ کوئی ہے جو ان کو پیدا کرتا ہے، بڑھاتا ہے پھر زوال کی طرف لے آتا ہے پھر یہ اس دنیا سے منتقل ہو جاتے ہیں۔ یا مثلاً فنا ہو جاتے ہیں۔ یہ ہے ممکن الوجود ۔
اب یہاں مزید تھوڑی سی ہم وضاحت کریں گے کہ جو ممکن الوجود ہوتا ہے اس کی علت ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کوئی ہوتا ہے۔ کہ جو اس کے امور کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لہذا ہم اپنے بارے میں دیکھتے ہیں کہ: ہمارا خالق کون ہے؟۔
مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے ماں باپ سے وجود میں آئے وہ اپنے ماں باپ سے اور وہ اپنے ماں باپ سے۔ بالآخر یہ سلسلہ کہاں ختم ہوا اور پھر اس آخری سلسلے کو کس نے بنایا لیکن! اگر ہم دیکھ لیں کہ یہ سلسلہ خود اللہ پر ختم ہوا جیسے ہمارے اس سلسلے کے آخر فرد حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ ہیں اب اگر پوچھیں کہ ان کو کس نے بنایا پھر جواب ہوگا کہ ایک ایسی ذات ہے جس نے ساری کائنات بنائی اور وہ اللہ ہے ۔ اللہ واجب الوجود ہے۔ یعنی! وہ خود اپنی ذات اپنے اوپر قائم ہے اور وہ کسی سے وابستہ نہیں ہے۔
اب ہم یہاں یہ نہیں پوچھ سکتے کہ اسے کس نے بنایا، چونکہ اگر ہم یہ سوال پوچھیں کہ اسے کس نے بنایا تو پھر تو یہ سوالات کبھی ختم ہی نہیں ہونگے پھر یہ چلتا رہے گا اور اسے ہم تسلسل کہتے ہیں۔
تسلسل
یعنی! ایک لامحدود سلسلہ اور یہ باطل ہے کیونکہ بالآخر اس کا ایک جواب ہونا چاہیے اور ایک جواب پر رکنا چاہیے۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اِس نے اُس کو بنایا اور اُس نے اِس کو بنایا یعنی اللہ نے کائنات کو بنایا اور کائنات نے اللہ کو یہ بھی ہم نہیں کہہ سکتے، اسے ہم کہتے ہیں دائرہ۔
دائرہ
یعنی جو اپنے اوپر گھومنا شروع ہوجائے۔ اور یہ بھی باطل ہے۔ مثلاً یہ ایسے ہی ہوگا کہ جیسے کوئی کہے کہ اولاد نے ماں باپ کو پیدا کیا اور ماں باپ نے اولاد کو تو یہ دائرہ ناممکن ہے۔ بلکہ ماں باپ کو ان کے ماں باپ نے اورپھر ان کے ماں باپ نے بالآخر یہ سلسلہ جا کر ختم ہونا چاہیے۔ کہ انہیں ایسی ذات نے بنایا ہو کہ جو علت کی محتاج نہ ہو اور جو علت کی محتاج ہو وہ ہم جیسے ممکنات ہے اور جو علت سے بے نیاز ہے، جو ہر چیز سے بے نیاز ہے وہ اللہ کی ذات ہے۔
اب ہو سکتا ہے کہ آپ کے ذہنوں میں ایک سوال ہو کہ اس کی تھیوری جو آپ نے پیش کی ہے اس کی مثال بھی دیں۔ تو ہم اس کی دو مثالیں دیتے ہیں۔ مثلاً کمرہ میں روشنی ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ کمرہ کیوں روشن ہے؟۔ ہم کہیں گے اس کے اندر سورج کی روشنی آرہی ہے جس کی وجہ سے یہ روشن ہے۔ تو اب کوئی مزید سوال نہیں کرے گا کہ سورج کیوں روشن ہے کیونکہ سب سمجھتے ہیں سورج کی روشنی ذاتی ہے۔
2۔ پانی کا ذائقہ
ہم پوچھتے ہیں کہ پانی کا ذائقہ کیسا ہے؟۔ آپ کہیں گے کہ یہ میٹھا ہے۔ ہم پوچھیں گے کہ یہ کیوں میٹھا ہے؟۔ آپ کہیں گے کہ اس میں چینی ڈالی ہوئی ہے یا پانی کیوں نمکین ہے؟۔ تو آپ کہیں گے کہ اس میں نمک ڈالا ہوا ہے۔
اب یہ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ نمک کیوں نمکین ہے اور چینی کیوں میٹھی ہے کیونکہ یہ ان کی ذاتی ہے اور وہاں آکر سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی مخلوقات میں سوالات ختم ہو جاتے ہیں۔ اب کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ چینی میٹھی اور نمک نمکین کیوں ہے کیونکہ یہ ان کی ذاتی ہے۔ تو بس ہم یہ نہیں پوچھ سکتے اور یہ ہمیں حق نہیں ہے کہ پوچھیں کہ کیوں اللہ علت ہے کیونکہ اللہ کا علت ہونا ذاتی ہے اس کا سبب ہونا ذاتی ہے اسے کسی نے خلق نہیں کیا اور اس کی کوئی علت اور سبب نہیں ہے۔
اسی طرح جس طرح چینی پر جا کر سوال ختم ہو گیا۔ ہاں چینی دوسروں کو میٹھا کر رہی ہے لیکن یہ میٹھا پن اس کی ذات سے نکلا ہے۔
اللہ کا خالق ہونا اس کی ذات سے نکلا ہے وہ ساری مخلوقات کا خالق ہے۔ لیکن وہ خود مخلوق نہیں ہے اس لیے قرآن میں آیا ہے:
(لیس کمثلہ شیء)
خدا کی مانند کوئی چیز نہیں۔
یہ اس سوال کا ایک ظاہراً اچھا جواب ہے۔ اور لائق استفادہ ہے۔
پروردگار ہمیں مذید توفیقات دے کہ ہم اس موضوع کو سیکھیں اور آگے اپنی نسلوں کو سیکھائیں تاکہ ان کے اندر دینداری اور توحید بڑھے، چونکہ آج ہمارے اندر کالج، یونیورسٹیوں اور سوشل میڈیا پر الحاد کا زور ہے، ملحدین اپنا کام کر رہے ہیں اور ہمیں بھی چاہیے کہ ان کے مد مقابل اپنا کام کریں اور الہیٰ سپاہی بن کر ان ملحدین کے مدمقابل اپنے دین اور عقائد کا دفاع کریں اور ایک حق والا جواب انہیں دیں۔
الحمدللہ
سلامتی براے استاد محترم۔
والسلام
عالمی مرکز مہدویت_ قم